"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu Petrol price 3 April 2026 |
پاکستان میں معاشی استحکام کی کوششوں کے درمیان، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں وہ اضافہ کر دیا ہے جس نے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ Voice of World Urdu کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ نوٹیفکیشن کے بعد ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
کہانی کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں عام آدمی پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ حکومت کے اس حالیہ فیصلے کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔
سرکاری ذرائع اور وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ "عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی" اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت کا 500 روپے سے تجاوز کر جانا خاص طور پر کسانوں اور مال بردار گاڑیوں کے لیے ایک بڑا معاشی صدمہ ہے، کیونکہ پاکستان کی پوری سپلائی چین اسی ایندھن پر منحصر ہے۔
اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی عوامی ردعمل میں تیزی آگئی ہے، جہاں لوگ اسے "معاشی خودکشی" قرار دے رہے ہیں۔ اس صورتحال کو اگر ہم The Twist of Time کے تناظر میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار قیمتیں اس سطح تک پہنچی ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی ان نئی قیمتوں سے افراطِ زر کی شرح میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جو پہلے ہی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں