"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Pakistan Petrol price Voice of World Urdu |
مشرقِ وسطیٰ کی آگ اور پاکستان کی معاشی زنجیریں: ایران سے زیادہ سنگین بحران کی دستک
تحریر: وائس آف ورلڈ اردو
تحریر کا دورانیہ: 5 منٹ
مشرقِ وسطیٰ کے افق پر جب بھی جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں، دنیا بھر کی نظریں تیل کی قیمتوں اور عالمی سیاست کے بدلتے زاویوں پر ٹک جاتی ہیں، لیکن اس بار منظرنامہ کچھ مختلف اور انتہائی پیچیدہ رخ اختیار کر چکا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی براہِ راست کشیدگی نے خطے کو ایک ایسی نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں محض سفارتی بیانات کافی نہیں رہے۔ اس گھمبیر صورتحال میں ایک عام تاثر یہ ابھرتا ہے کہ شاید ایران، جو دہائیوں سے عالمی پابندیوں کی زد میں ہے، سب سے زیادہ معاشی دباؤ کا شکار ہوگا، مگر حقیقت کی تہیں کھولنے پر معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی معاشی مجبوریاں اسے ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک اور نازک موڑ پر لے آئی ہیں۔
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ایران نے برسوں کی تنہائی اور معاشی بائیکاٹ کے باوجود اپنی معیشت کو ایک خاص حد تک 'مزاحمتی ڈھانچے' میں ڈھال لیا ہے، جہاں وہ اپنی بقا کے لیے بیرونی امداد یا عالمی مالیاتی اداروں کا محتاج نہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی حالت اس مسافر جیسی ہے جس کی سانسیں دوسروں کے فراہم کردہ آکسیجن سلنڈر پر چل رہی ہوں۔ مشرقِ وسطیٰ کے اس بحران نے پاکستان کے لیے ایک ایسا "پینڈورا باکس" کھول دیا ہے جس میں ایک طرف توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں اور دوسری طرف تزویراتی توازن برقرار رکھنے کی وہ کٹھن آزمائش، جس کا براہِ راست اثر ملکی معیشت پر پڑ رہا ہے۔
ماہرینِ معیشت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے پاس اپنے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں جو اسے کسی بھی بڑے بحران میں کم از کم داخلی توانائی کی فراہمی میں خود کفیل رکھتے ہیں، لیکن پاکستان کا انحصار مکمل طور پر درآمدی ایندھن پر ہے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں عالمی جنگی حالات اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے بڑھتی ہیں، تو پاکستان میں افراطِ زر کا ایک نیا طوفان جنم لیتا ہے، جو پہلے سے ہی مہنگائی کی چکی میں پستی ہوئی عوام کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ یہاں یہ تضاد واضح ہو کر سامنے آتا ہے کہ ایک ریاست جس پر پابندیاں ہیں، وہ اپنے وسائل کی وجہ سے کھڑی ہے، جبکہ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود پاکستان آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے بوجھ تلے اس قدر دبا ہوا ہے کہ اس کے پاس آزادانہ معاشی فیصلے کرنے کی گنجائش ہی ختم ہو چکی ہے۔
اس معاشی مجبوری کا سب سے تاریک پہلو وہ ہے جسے اکثر 'خاموش بحران' کہا جاتا ہے۔ پاکستان کی اشرافیہ اور پالیسی سازوں نے برسوں سے جس طرح معیشت کو عالمی قرضوں کے سہارے چلایا، اس کا نتیجہ آج یہ نکلا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں لگی آگ کی تپش سب سے زیادہ پاکستان کے غریب طبقے کو محسوس ہو رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ تصادم اور عالمی جنگی حالات نے نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کو مہنگا کیا ہے بلکہ ترسیلاتِ زر کے اس بہاؤ کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے جو خلیجی ممالک سے پاکستان کی معیشت کو سہارا دیتا رہا ہے۔ ایران کے پاس شاید ڈالر کی کمی ہو، لیکن اس کے پاس غذائی تحفظ اور توانائی کی خود کفالت کا ایک ماڈل موجود ہے، جبکہ پاکستان میں ذخیرہ اندوزی اور معاشی بدانتظامی نے صورتحال کو اس حد تک بگاڑ دیا ہے کہ بیرونی بحران آنے سے پہلے ہی اندرونی ڈھانچہ لرزنے لگتا ہے۔
سیاسی و معاشی تجزیہ کار یہ تسلیم کرتے ہیں کہ "پاکستان کی خارجہ پالیسی اب اس کی معیشت کی یرغمال بن چکی ہے"۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور اسرائیل کے معاملے پر پاکستان کو انتہائی پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑ رہا ہے، کیونکہ ذرا سی لغزش اسے عالمی مالیاتی نظام سے کاٹ سکتی ہے، جس کا بوجھ اٹھانے کی سکت اس وقت ملک میں موجود نہیں۔ ایران کی معاشی مشکلات اس کی اپنی پسند کردہ سیاسی سمت کا نتیجہ ہو سکتی ہیں، لیکن پاکستان کی معاشی بے بسی اس کے ڈھانچہ جاتی بگاڑ اور قرضوں پر انحصار کا وہ ثمر ہے جس نے اسے خطے کے کسی بھی بحران میں سب سے زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ اس صورتحال میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اصل جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی، بلکہ اصل جنگ ان معاشی ایوانوں میں ہے جہاں پاکستان کی بقا کا انحصار اب دوسروں کی مرضی اور عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ پر منحصر ہو کر رہ گیا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں