"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

​بساط کے دو چہرے: مفاہمت کا نقاب اور طاقت کا ڈنڈا

Liberal Democracy


بساط کے دو چہرے: مفاہمت کا نقاب اور طاقت کا ڈنڈا

تحریر کا دورانیہ: 5 منٹ

رات کے پچھلے پہر جب سڑکیں سنسان ہوتی ہیں، تو فرسٹ ورلڈ کی چمکتی ہوئی شاہراہوں اور تیسری دنیا کی دھول اڑتی گلیوں کے درمیان ایک گہری خلیج نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہاں پولیس خاموش تماشائی کیوں بن جاتی ہے اور یہاں لہو کیوں بہاتی ہے؟

پہلی دنیا یعنی ترقی یافتہ ممالک میں احتجاج کو کچلنے کی ضرورت اس لیے محسوس نہیں ہوتی کیونکہ وہاں کا "نظام" اتنا توانا ہے کہ اسے سڑک پر موجود مجمع سے کوئی خطرہ نہیں۔ وہاں کے حکمران جانتے ہیں کہ اقتدار کی چابیاں کسی ایک شخص کی جیب میں نہیں بلکہ اداروں کے پاس ہیں۔ اگر ایک حکومت گر بھی جائے تو ریاست کا ڈھانچہ سلامت رہتا ہے۔ وہاں احتجاج کو "پروٹوکول" دیا جاتا ہے تاکہ عوام کو یہ مغالطہ رہے کہ وہ بااختیار ہیں۔ یہ ایک طرح کا "Social Contract" (سماجی معاہدہ) ہے؛ تم سڑک پر شور مچاؤ، ہم بند کمروں میں فیصلے کریں گے۔ جب تک عوام کا غصہ سڑکوں پر نعروں کی صورت میں نکل رہا ہے، تب تک حکمران محفوظ ہیں۔

لیکن جیسے ہی آپ تیسری دنیا کی سرحد عبور کرتے ہیں، منظر بدل جاتا ہے۔ یہاں احتجاج کا مطلب صرف پالیسی کی مخالفت نہیں، بلکہ اس کرسی پر قبضہ ہے جس پر حکمران بیٹھا ہے۔ یہاں "Legitimacy" (جوازِ اقتدار) کی جڑیں اتنی کھوکھلی ہوتی ہیں کہ ایک چھوٹا سا مجمع بھی پورے نظام کو لرزا دیتا ہے۔ یہاں کا حکمران جانتا ہے کہ اگر اس نے ایک انچ بھی جگہ چھوڑی، تو یہ سیلاب اسے اور اس کی نسلوں کو بہا لے جائے گا۔ یہاں سمجھوتہ کرنا موت کو دعوت دینا ہے، اس لیے یہاں کی زبان "مکالمہ" نہیں بلکہ "سختی" ہے۔

تیسری دنیا میں احتجاج کو کچلنے کی ایک بڑی وجہ "Institutions vs Individuals" کا ٹکراؤ ہے۔ پہلی دنیا میں ادارے حکمرانوں سے بڑے ہوتے ہیں، جبکہ یہاں حکمران اداروں کو اپنی ڈھال بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ جب پولیس اور انتظامیہ کا کام ریاست کے بجائے کسی فردِ واحد کے مفاد کا تحفظ بن جائے، تو پھر وہ قانون کی نہیں بلکہ اپنے "آقا" کی بقا کی جنگ لڑتے ہیں۔

یہ وہ تاریک حقیقت ہے جسے ہم Noir Journalism کے ذریعے بے نقاب کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ دنیا ہے جہاں احتجاج کو ایک "شو" بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ جمہوریت کا بھرم رہے، اور دوسری طرف وہ دنیا جہاں احتجاج ایک "جرم" ہے کیونکہ یہاں کا اقتدار سچائی کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی