"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

گالی سے تالی تک: "وائرل ہونے کا شارٹ کٹ" تحریر علی رضا

Viral Culture Dark Side

 گالی سے تالی تک: وائرل ہونے کا شارٹ کٹ

تحریر کا دورانیہ: 4 منٹ

شہر کی روشنیاں اتنی ہی جھوٹی ہیں جتنا کہ وہ کیمرہ جس کے سامنے بیٹھ کر کوئی اپنی عزت نیلام کرتا ہے۔ اس ڈیجیٹل دور کی اندھیری گلیوں میں ایک عجیب سا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اصول سادہ ہے: پہلے اتنا گر جاؤ کہ دنیا تمہیں دیکھنے پر مجبور ہو جائے، اور جب شہرت کی گندگی تم پر لیپ دی جائے، تو ایک سفید کرتا پہن کر کیمرے کے سامنے آؤ، دو آنسو گراؤ اور معافی مانگ لو۔

جدید صحافت کے اصول بدل چکے ہیں۔ اب خبر وہ نہیں جو سچ ہے، بلکہ خبر وہ ہے جو "وائرل" ہے۔ جیسا کہ ایک معروف محقق نے کہا تھا: "شہرت کی کوئی بو نہیں ہوتی، چاہے وہ گٹر سے ہی کیوں نہ آ رہی ہو۔" اس کھیل کے کھلاڑی جانتے ہیں کہ انسانی حافظہ بہت کمزور ہے۔ لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ آپ نے کیا کہا تھا، انہیں بس وہ چہرہ یاد رہتا ہے جو ہر سکرین پر نظر آ رہا تھا۔ پوڈ کاسٹ کے نام پر سجائی گئی ان محفلوں میں جب "واہیات" مواد پیش کیا جاتا ہے، تو دراصل وہ ایک سوچی سمجھی کاروباری حکمت عملی ہوتی ہے۔

ڈیجیٹل مارکیٹ میں 'معافی' اب ایک پروڈکٹ بن چکی ہے، جسے "ری برینڈنگ" کا نام دیا جاتا ہے۔

یہ نائیر (Noir) دنیا ہے میرے دوست، یہاں سائے قد سے بڑے ہوتے ہیں۔ یہاں معافی ضمیر کی آواز نہیں، بلکہ اگلے پراجیکٹ کا سائننگ اماؤنٹ (Signing Amount) ہے۔ جب تک ہم 'دیکھنے والے' اس تماشے کو تالیاں بجا کر دیکھتے رہیں گے، یہ واہیات پوڈ کاسٹ اور سستی شہرت کے سوداگر ہماری سکرینوں پر راج کرتے رہیں گے۔

سچ تو یہ ہے کہ یہاں اب کوئی معصوم نہیں رہا۔ سب نے اپنے اپنے حصے کا گناہ کر رکھا ہے، بس کسی کا کیمرہ آن ہے اور کسی کا آف۔

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی