"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

سنہری بالیوں کا قتلِ عام اور آسمان کی بے رحمی: تحریر سدرہ اکرام

Rain-damaged wheat crops: A visual report by Voice of World Urdu

 سنہری بالیوں کا قتلِ عام اور آسمان کی بے رحمی

تحریر: سدرہ اکرام 

تحریر کا دورانیہ :3 منٹ

آسمان سے گرتی یہ بوندیں اب رزق نہیں، بلکہ کسان کے خوابوں پر پڑنے والے کوڑے بن چکی ہیں۔ جب سورج کی پہلی کرن کو گندم کے کھیتوں میں سونے کے رنگ بکھیرنے تھے، تب سرمئی بادلوں نے پورے افق کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ وہ وقت ہے جب زمین سے جڑے انسان کی آنکھوں میں سرخی اتر آئی ہے، کیونکہ اس کی سال بھر کی ریاضت تاش کے پتوں کی طرح بکھرتی نظر آ رہی ہے۔ زرعی رپورٹوں کے مطابق، پنجاب کے وسطی اضلاع میں ژالہ باری اور تیز ہواؤں نے گندم کی کمر توڑ دی ہے، وہ فصل جو چند دن پہلے تک سر اٹھا کر کھڑی تھی، اب کیچڑ میں دبی سسک رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیشگوئیوں کا حوالہ دیں تو آنے والے چند دن مزید بھاری ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرینِ زراعت کا ماننا ہے کہ "اگر نمی کا یہ تناسب برقرار رہا، تو دانہ کالا پڑ جائے گا اور مارکیٹ میں کسان کو اس کی آدھی قیمت بھی نہیں ملے گی۔" یہ محض ایک معاشی نقصان نہیں ہے، بلکہ اس دیہی معیشت کا قتل ہے جو گندم کی کٹائی سے جڑی شادیوں، قرضوں کی واپسی اور بچوں کی تعلیم کے خواب دیکھ رہی تھی۔
گھپ اندھیرے میں ڈوبے ان کھیتوں میں اب صرف پانی کے بہنے کی آواز ہے یا پھر کسان کے سگریٹ کا دھواں، جو ٹھنڈی ہواؤں میں کہیں گم ہو جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس موسمیاتی شدت کا زور جمعے کی رات تک ٹوٹنے کی امید ہے، لیکن تب تک بہت کچھ لٹ چکا ہوگا۔ پانی کے نکاس کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی ان بے رحم لہروں کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ اب سب کی نظریں اس لمحے پر ہیں جب بادل چھٹیں گے اور وہ ادھورا سورج نکلے گا جو شاید ان بھیگی ہوئی بالیوں میں دوبارہ جان ڈال سکے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی