"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
- خواتین کی جدوجہد کی ایک عالمی تاریخ: یہ علامتی پوسٹر دنیا بھر میں خواتین کے اتحاد اور حقوق کی تحریک کی عکاسی کرتا ہے"۔
تحریر: وائس آف ورلڈ (انویسٹی گیٹو ڈیسک)
اسلام آباد (8 مارچ 2026): پاکستان کے دارالحکومت میں آج اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے نکالی گئی ایک ریلی کے شرکاء کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ شہر میں پہلے سے نافذ دفعہ 144 کو ان گرفتاریوں کا قانونی جواز بتایا جا رہا ہے۔
آج صبح جب خواتین کے مختلف گروپ اپنے حقوق کے تحفظ اور عالمی دن کی مناسبت سے اسلام آباد کے پریس کلب کی جانب مارچ کر رہے تھے، تو پولیس کی بھاری نفری نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی کے بعد متعدد خواتین کارکنوں کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا گیا۔
اسلام آباد انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ شہر میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے یا احتجاج کرنے پر پابندی ہے۔
اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں خواتین کے حقوق کی تحریکیں ہمیشہ سے چیلنجز کا شکار رہی ہیں۔ آج کی گرفتاریاں ہمیں ماضی کے ان واقعات کی یاد دلاتی ہیں جب خواتین نے اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل کر آمریت اور سخت قوانین کا مقابلہ کی۔
تجزیہ
ایک تحقیقاتی صحافی کے طور پر یہ سوال اہم ہے کہ کیا دفعہ 144 کا نفاذ صرف سیکیورٹی کے لیے ہے یا یہ سیاسی و سماجی آوازوں کو دبانے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے؟ اسلام آباد میں ہونے والے آج کے واقعات نے ایک بار پھر ریاست اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن پر بحث چھیڑ دی ہے۔
"خواتین کے عالمی دن کی اہمیت کے بارے میں ہمارا پچھلا آرٹیکل یہاں پڑھیں"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں