"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu |
(باب دوم: ہیلیم-3 اور جنوبی قطب کی جنگ)
تحقیق و تجزیہ: وائس آف ورلڈ اردو
پہلے باب میں ہم نے 'آرٹیمس معاہدے' کے قانونی پہلوؤں کو دیکھا، لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں چاند کی اس بنجر زمین کے لیے اتنی بے چین کیوں ہیں؟ جواب سادہ ہے: چاند اب صرف ایک سیارہ نہیں رہا، بلکہ یہ مستقبل کی توانائی کا "سونا" اور خلا میں جانے والے جہازوں کا "گیس اسٹیشن" بننے جا رہا ہے۔
چاند کی مٹی (Regolith) میں ایک ایسی گیس چھپی ہے جو زمین پر نایاب ہے، اسے ہیلیم-3 (Helium-3) کہا جاتا ہے۔
آپ نے اکثر خبروں میں سنا ہوگا کہ ہر ملک چاند کے جنوبی قطب (South Pole) پر ہی کیوں اترنا چاہتا ہے؟ اس کی وجہ وہاں موجود برف (Water Ice) ہے۔
جو ملک چاند کے ان حصوں پر پہلے قبضہ کرے گا جہاں برف اور ہیلیم-3 کی مقدار زیادہ ہے، وہ مستقبل کی عالمی معیشت کا سلطان ہوگا۔ اسی لیے امریکہ اپنی نجی کمپنیوں (SpaceX وغیرہ) کو فنڈز دے رہا ہے تاکہ وہ وہاں کان کنی (Mining) کا ڈھانچہ تیار کریں۔
تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ جس طرح 19ویں صدی میں تیل کے کنوؤں پر قبضے کے لیے جنگیں ہوئیں، 21ویں صدی میں چاند کے "پانی کے ذخائر" اور "ہیلیم گیس" پر قبضے کے لیے بساط بچھائی جا چکی ہے۔ اب یہ محض سائنس نہیں، بلکہ "خلائی جیو پولیٹکس"ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں