"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| تصویر بشکریہ عورت آزادی مارچ |
تحریر: وائس آف ورلڈ (نیوز ڈیسک)
اسلام آباد (8 مارچ 2026): وفاقی دارالحکومت میں محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ مارچ اس وقت کریک ڈاؤن کا شکار ہو گیا جب پولیس نے نامور سماجی رہنما ڈاکٹر فرزانہ باری سمیت متعدد منتظمین اور شرکاء کو جبری طور پر حراست میں لے لیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ سامراجی جنگوں سے متاثرہ خواتین اور کمزور طبقات کے حقوق کے لیے پرامن آواز اٹھا رہے تھے، لیکن ریاست کی جانب سے اس آواز کو دبانے کے لیے جبری گرفتاریوں کا سہارا لیا گیا۔ ڈاکٹر فرزانہ باری اور دیگر شرکاء کو حبسِ بیجا میں رکھنے کی خبروں نے انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
عوامی ورکرز پارٹی راولپنڈی اور اسلام آباد نے اس حکومتی جبر کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پارٹی ترجمان کے مطابق:
ایک طرف ریاست محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے دعوے کرتی ہے، تو دوسری طرف جب عملی طور پر خواتین اپنے حقوق اور عالمی امن کے لیے سڑکوں پر نکلتی ہیں، تو انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ کیا اسلام آباد میں احتجاج کی جگہ اب صرف تھانے اور جیلیں رہ گئی ہیں؟
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں