"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

اسلام آباد: ڈاکٹر فرزانہ باری سمیت مارچ منتظمین کی گرفتاری، عوامی ورکرز پارٹی کا فی الفور رہائی کا مطالبہ ​تحریر: وائس آف ورلڈ (نیوز ڈیسک)

تصویر بشکریہ عورت آزادی مارچ
 

اسلام آباد : 
ڈاکٹر فرزانہ باری سمیت مارچ منتظمین کی گرفتاری، عوامی ورکرز پارٹی کا فی الفور رہائی کا مطالبہ

تحریر: وائس آف ورلڈ (نیوز ڈیسک)

اسلام آباد (8 مارچ 2026): وفاقی دارالحکومت میں محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ مارچ اس وقت کریک ڈاؤن کا شکار ہو گیا جب پولیس نے نامور سماجی رہنما ڈاکٹر فرزانہ باری سمیت متعدد منتظمین اور شرکاء کو جبری طور پر حراست میں لے لیا۔

جبر کا اقدام اور حبسِ بیجا

​مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ سامراجی جنگوں سے متاثرہ خواتین اور کمزور طبقات کے حقوق کے لیے پرامن آواز اٹھا رہے تھے، لیکن ریاست کی جانب سے اس آواز کو دبانے کے لیے جبری گرفتاریوں کا سہارا لیا گیا۔ ڈاکٹر فرزانہ باری اور دیگر شرکاء کو حبسِ بیجا میں رکھنے کی خبروں نے انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

عوامی ورکرز پارٹی (AWP) کا سخت ردِعمل

​عوامی ورکرز پارٹی راولپنڈی اور اسلام آباد نے اس حکومتی جبر کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پارٹی ترجمان کے مطابق:

  • ​محنت کش خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا کوئی جرم نہیں ہے۔
  • ​نہتے مظاہرین اور خواتین رہنماؤں پر پولیس کا کریک ڈاؤن جمہوریت کے ماتھے پر کلنک ہے۔
  • ​اے ڈبلیو پی (AWP) مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر فرزانہ باری اور تمام زیرِ حراست افراد کو فی الفور رہا کیا جائے۔

تجزیہ: "The Twist of Time' 

​ایک طرف ریاست محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے دعوے کرتی ہے، تو دوسری طرف جب عملی طور پر خواتین اپنے حقوق اور عالمی امن کے لیے سڑکوں پر نکلتی ہیں، تو انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ کیا اسلام آباد میں احتجاج کی جگہ اب صرف تھانے اور جیلیں رہ گئی ہیں؟

"اس سے جڑی پچھلی تحریر پڑھنے کے لیے کلک کریں" 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی