"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu |
(باب سوم: وہ نایاب گیس جو زمین کی تقدیر بدل سکتی ہے)
تحقیق و تجزیہ: وائس آف ورلڈ اردو
زمین پر ہم نے توانائی کے لیے کوئلہ، تیل، گیس اور روایتی ایٹمی بجلی گھروں کا استعمال کیا، لیکن ان سب کے ساتھ دو بڑے مسائل ہیں: محدود ذخائر اور ماحول کی تباہی۔ لیکن چاند کی سطح پر ایک ایسا خزانہ چھپا ہے جو ان تمام مسائل کا واحد حل ہو سکتا ہے، اسے سائنس کی زبان میں ہیلیم-3 کہا جاتا ہے۔
ہیلیم-3 دراصل سورج سے نکلنے والی توانائی (Solar Winds) کا حصہ ہے۔ زمین کا مقناطیسی میدان اور فضا اس گیس کو ہم تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں، لیکن چاند کی کوئی فضا نہیں ہے۔ اربوں سالوں سے سورج کی یہ شعاعیں چاند کی مٹی (Regolith) میں جذب ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہاں اس کے وسیع ذخائر جمع ہو چکے ہیں۔
آج کے ایٹمی بجلی گھر "نیوکلیئر فیشن" (ایٹم کو توڑنے) پر چلتے ہیں جس سے خطرناک تابکار مادہ (Radioactive Waste) پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہیلیم-3 "نیوکلیئر فیوژن" (ایٹموں کو جوڑنے) کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ہیلیم-3 کی قیمت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس کا صرف ایک ٹن 5 ارب ڈالر کے قریب ہے (تقریباً 14 کھرب پاکستانی روپے)۔ چاند پر اس کے 11 لاکھ ٹن ذخائر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا اسے محض سائنس نہیں بلکہ "مستقبل کی کرنسی" کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
جس طرح 20ویں صدی "تیل" کی تھی، 21ویں صدی "ہیلیم-3" کی ہو سکتی ہے۔ جو ملک چاند کی مٹی سے اس گیس کو نکالنے اور زمین پر لانے کی ٹیکنالوجی پہلے حاصل کر لے گا، وہ آنے والے کئی سو سالوں تک دنیا کا "انرجی سپر پاور" رہے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں