"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

خلا کی نئی بندر بانٹ: ہیلیم-3 اور مستقبل کا ایٹمی انقلاب (باب سوم: وہ نایاب گیس جو زمین کی تقدیر بدل سکتی ہے)

Voice of World Urdu 

 

خلا کی نئی بندر بانٹ: ہیلیم-3 اور مستقبل کا ایٹمی انقلاب

(باب سوم: وہ نایاب گیس جو زمین کی تقدیر بدل سکتی ہے)

تحقیق و تجزیہ: وائس آف ورلڈ اردو

​زمین پر ہم نے توانائی کے لیے کوئلہ، تیل، گیس اور روایتی ایٹمی بجلی گھروں کا استعمال کیا، لیکن ان سب کے ساتھ دو بڑے مسائل ہیں: محدود ذخائر اور ماحول کی تباہی۔ لیکن چاند کی سطح پر ایک ایسا خزانہ چھپا ہے جو ان تمام مسائل کا واحد حل ہو سکتا ہے، اسے سائنس کی زبان میں ہیلیم-3 کہا جاتا ہے۔

ہیلیم-3 کیا ہے اور یہ چاند پر کہاں سے آئی؟

​ہیلیم-3 دراصل سورج سے نکلنے والی توانائی (Solar Winds) کا حصہ ہے۔ زمین کا مقناطیسی میدان اور فضا اس گیس کو ہم تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں، لیکن چاند کی کوئی فضا نہیں ہے۔ اربوں سالوں سے سورج کی یہ شعاعیں چاند کی مٹی (Regolith) میں جذب ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہاں اس کے وسیع ذخائر جمع ہو چکے ہیں۔

یہ 'خطرے سے پاک' ایٹمی توانائی کیسے ہے؟

​آج کے ایٹمی بجلی گھر "نیوکلیئر فیشن" (ایٹم کو توڑنے) پر چلتے ہیں جس سے خطرناک تابکار مادہ (Radioactive Waste) پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہیلیم-3 "نیوکلیئر فیوژن" (ایٹموں کو جوڑنے) کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

  • خوبی: اس عمل سے کوئی تابکاری پیدا نہیں ہوتی۔ یہ مکمل طور پر "گرین انرجی" ہے۔
  • طاقت: ماہرین کے مطابق، ہیلیم-3 کا صرف ایک ٹن اتنا ایندھن فراہم کر سکتا ہے جو 10 ملین ٹن کوئلے کے برابر ہو!

قیمت اور معیشت: 5 ارب ڈالر فی ٹن!

​ہیلیم-3 کی قیمت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس کا صرف ایک ٹن 5 ارب ڈالر کے قریب ہے (تقریباً 14 کھرب پاکستانی روپے)۔ چاند پر اس کے 11 لاکھ ٹن ذخائر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا اسے محض سائنس نہیں بلکہ "مستقبل کی کرنسی" کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

وائس آف ورلڈ تجزیہ (The Twist of Time):

​جس طرح 20ویں صدی "تیل" کی تھی، 21ویں صدی "ہیلیم-3" کی ہو سکتی ہے۔ جو ملک چاند کی مٹی سے اس گیس کو نکالنے اور زمین پر لانے کی ٹیکنالوجی پہلے حاصل کر لے گا، وہ آنے والے کئی سو سالوں تک دنیا کا "انرجی سپر پاور" رہے گا۔

    اس سلسلے کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے    

اس سلسلے کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے     

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی